دنیا بھر میں مسترد شدہ یہ روڈز سٹڈز پاکستان میں آج بھی سپیڈ بریکر کے طور پر استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اور ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بڑی بڑی ٹائر کمپنیاں مفت لگوا کے دیتی ہیں۔ یہ اینٹ نما روڈز سٹڈز نہ صرف گاڑی کے ٹائرز کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ ویل الائمنٹ اور بیلنس بھی خراب کرتے ہیں جو کہ کسی بھی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے۔ایک مصروف شاہراہ پر ان خطرناک روڈز سٹڈز کی تنصیب انتظامیہ کی جہالت، نا اہلی اور عوام دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان سے گزارش گزارش ہے کہ ملک کی تمام مصروف شاہراہوں سے ان روڈز سٹڈز کا خاتمہ کیا جائے اور گاڑیوں کی رفتار کم کرنے کےلئے بین الاقوامی ٹریفک قوانین کے مطابق منظور شدہ سپیڈ بریکرز کا استعمال کیا جائے
حیات آباد انڈسٹریل روڈ پر اتنے زیادہ لگاۓ تھے لیکن وہاں پر ہیروئینچوں سارے روڈ سے صفایا کیا ہے۔
دن میں دھونی کا فین رات میں اسپائیڈر مین، پشاور سے منظم ڈکیت گروہ کا…
خیبرپختونخوا میں آج سے بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان خیبرپختونخوا کے مختلف…
پشاور بورڈ کا بڑا اعلان، 7سے 10اکتوبر کے ایس ایس سی پرچے ملتوی پشاور:بورڈ آف…
پشاور میں مبینہ اغواء کا ڈرامہ رچانے والا نوجوان بحفاظت بازیاب پشاور: ورسک ڈویژن کے…
پشاور: خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں پہلی روبوٹک گھٹنے کی تبدیلی کی سرجری پشاور: خیبر ٹیچنگ…
پشاور میں احتجاج کرنے والے یونیورسٹی طلباء پر سیکیورٹی گارڈز کی فائرنگ طلباء ہاسٹل میں…