پشاور کا یوسف خان
روزنامہ میدان 8 جولائی 2021
محاذقلم
فداعدیل
60 سالہ فلمی کیرئر میں ہندوستان کی فلم انڈسٹری پر راج کرنے والے فرزند پشاور محمد یوسف خان المعروف دلیپ کمار 98؛ سال کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ان کے انتقال کی خبر سنتے ہی پشاور میں دلیپ کمار کی جائے پیدائش پر ان کے چاہنے والوں کا تانتا بندھ گیا۔ پشاور کے تاریخی قصہ خوانی بازار سے متصل محلہ خداداد میں واقع پونے چار مرلے کا مکان دلیپ کمار کا جنم بھومی ہے، یہ مکان گزشتہ کئی برسوں سے حکومت اور اس مکان کے مالکان کے مابین تنازعے کا باعث رہا ہے۔ اس مکان کو قومی ورثہ قرار دینے کا آغاز عوامی نیشنل پارٹی کے دور میں ہوا جب اس وقت کے وزرا میاں افتخار حسین اور سید عاقل شاہ نے اس معاملے میں دلچسپی لی مگر مالک مکان اور حکومت کے مابین مکان کی قیمت پر معاملہ طے نہیں پایا۔
اسی مکان میں مالک مکان کی جانب سے پریس کانفرنسز کی گئیں جن میں مکان کی قیمت بڑھانے کے مطالبات کئے جاتے رہے۔ اس وقت تک یہ مکان اس قابل تھا کہ اس میں رہائش اختیار کی جاسکتی تھی۔ پھر کچھ سال گزرے تو آس پاس کے دکانداروں نے اس تاریخی مکان کو گودام کے طور پر استعمال کرنا شروع کیا۔ بیچ میں لالچ نے ایسا مکروہ کردار ادا کیا کہ آج یہ مکان ویرانیوں کا مسکن ہے۔ اب تحریک انصاف حکومت نے اس مکان کو خرید کر قومی ورثہ قرار دیا ہے اور عندیہ دیا ہے کہ یہاں عجائب گھر قائم کیا جائے گا اور اس کو پرانی حالت میں بحال کرکے شہریوں کے لئے کھول دیا جائے گا۔
دلیپ کمار کو اس مکان سے خاص دل چسپی رہی، اور ہوتی بھی کیوں نا، دلیپ کمار نے جس مکان میں آنکھ کھولی جہاں کے کمروں، برآمدوں اور صحن و چھت پر کھیلتے رہے، اس مکان سے دلیپ کمار کی دلچسپی کیوں نہ ہوتی۔ دلیپ کمار کے رشتے میں بھتیجے فواد اسحاق پشاور میں کولڈ سٹوریج کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ فواد اسحاق نے گزشتہ روز دلیپ کمار سے وابستہ کئی ایک یادیں ہمارے ساتھ شئیر کیں۔ فواد اسحاق نے بتایا کہ جب دلیپ کمار کے والدین ممبئی منتقل ہوئے تو اس کے بعد بھی اس خاندان کا پشاور آنا جانا رہا۔ لیکن فلمی دنیا میں قدم جمانے کے بعد دلیپ کمار جب پہلی بار اپنی اہلیہ سائرہ بانو کے ہمراہ 1988 میں پشاور آئے تو عوام کے جم غفیر نے ان کا شاندار استقبال کیا اور سپوت پشاور پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ دلیپ کمار نے اپنی جائے پیدائش کے مختلف حصے دیکھے اور تمام سرکاری حکام اور وہاں موجود لوگوں کو باہر نکال کر کہا کہ میں ایک گھنٹہ اپنے گھر میں اکیلے گزارنا اور بچپن کی یادیں تازہ کرنا چاہتا ہوں۔ بتایا گیا کہ دلیپ کمار نے اپنے گھر میں سائرہ بانو کو وہ الماری بھی دکھائی جہاں ان کے والد پیسے رکھتے اور وہ خود بھی اس الماری میں پیسے چھپایا کرتے تھے۔
سائرہ بانو نے اس دورے میں تاریخی الفاظ ادا کئے تھے، سائرہ بانو نے کہا تھا کہ پشاور آکر معلوم ہوا کہ دلیپ کمار کے جسم کی خوشبو دراصل پشاور کی مٹی کی خوشبو ہے۔ دلیپ کمار کے اس دورے کا مقصد فاطمید فاؤنڈیشن اور شوکت خانم کینسر ہسپتال کے لئے فنڈ ریزنگ میں اپنا حصہ ڈالنا تھا۔دلیپ کمار کو جب پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز نشان امتیاز وصول کرنے کے لئے حکومت پاکستان کی جانب سے خصوصی دعوت دی گئی تو وہ دوسری بار 1998 میں پاکستان آئے اور اس وقت کے صدر مملکت رفیق تارڑ سے پاکستانی سول اعزاز وصول کیا۔ دلیپ کمار نے دس سال کے وقفے سے دوبارہ اپنی جائے پیدائش دیکھنے کی خواہش کی تو ان کو پورے سرکاری پروٹوکول میں پشاور لایا گیا۔
اس مرتبہ دلیپ کمار کے مداح پہلے سے زیادہ تعداد میں ایسے جمع ہوئے کہ پشاور شہر کی سڑکیں شہنشاہ جذبات کے عاشقوں سے بھر گئیں اور لوگ دلیپ کمار کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے امڈ آئے، عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ دلیپ کمار جس گاڑی میں سوار تھے وہ قصہ خوانی بازار پہنچنے سے قبل ہی لوگوں میں پھنس گئی اور دلیپ کمار آخری مرتبہ اپنا گھر نہ دیکھ پائے اور واپس لوٹ آئے جس کا ان کو افسوس بھی رہا۔ شکیل وحید اللہ خان پشاور سے تعلق رکھتے ہیں اور دلیپ کمار سے عشق کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں، نیشنل ہیریٹج کونسل کے پلیٹ فارم سے شکیل وحید اللہ خان ہر سال 11 دسمبر کو پشاور پریس کلب میں دلیپ کمار کی سالگرہ مناتے رہے ہیں۔ ہر سال کیک لاکر صحافی برادری کے ہمراہ دلیپ کمار کی سالگرہ منانے والے شکیل وحید اللہ بتاتے ہیں کہ وہ گواہ ہیں کہ دلیپ صاحب کو پشاور سے کتنا لگاؤ تھا۔ وہ متعدد بار دلیپ صاحب سے ملنے ممبئی گئے جہاں دلیپ کمار نے ایک بنگلے کو “پشاور ہاوس” کا نام دے رکھا تھا جس میں پشاور یا خیبرپختونخوا کا حوالہ رکھنے والے مہمانوں کی خصوصی روایتی مہمان نوازی کی جاتی تھی، وہ پشاور سے جانے والوں کو خصوصی شفقت سے نوازتے تھے۔
شکیل وحید اللہ خان نے دلیپ کمار کے ساتھ اپنی عقیدت کا حق ادا کرتے ہوئے دلیپ کمار کے پیدائشی مکان کی چھت سے متصل کھلی جگہ پر یوسف خان )دلیپ کمار( کی غائبانہ نماز جنازہ کی ادائیگی کا اہتمام کیا۔ شکیل وحید اللہ سارا دن ایسے میڈیا کو انٹرویوز دیتے اور دلیپ کمار کی یادیں شئیر کرتے رہے جیسے وہ پشاور میں دلیپ کمار خاندان کے وارث ہوں۔ یہ میڈیا کو بھی معلوم تھا کہ دلیپ کمار کے حوالے سے پشاور سے رپورٹنگ کرتے وقت بات کس سے کرنی ہے۔ دلیپ کمار کی جائے پیدائش کا آج کا حال دیکھا جائے تو افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ راج کپور فیملی بھی ہندوستان میں پشاور کا نام فخر سے لیتی ہے، حکومت نے پرتھوی راج اور راج کپور کی پشاور میں واقع حویلی کو بھی قومی ورثہ قرار دیا ہے۔ مزے کی بات یہ بھی ہے کہ دلیپ کمار، راج کپور اور شاہ رخ خان کے والدین کی رہائش گاہوں میں چند فرلانگ کا فاصلہ ہے۔
یہ تاریخی مقامات قصہ خوانی بازار کے آس پاس واقع ہیں۔ اس بازار کی اپنی تاریخی حیثیت ہے جس پر کسی اور موقع پر تفصیلی بات کریں گے۔ دلیپ کمار کے انتقال پر اہل پشاور کی افسردگی کی وجہ ایک انڈین اداکار کی موت نہیں بلکہ سپوت پشاور کی رحلت ہے۔ ایسا سپوت جس نے پشاوریوں کے ساتھ ہندکو اور پشتو میں بات کرکے محبتوں سے نوازا۔ دلیپ کمار دنیا چھوڑ گئے مگر ان کا فن اور ان کا بڑا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔
پشاور میں مبینہ اغواء کا ڈرامہ رچانے والا نوجوان بحفاظت بازیاب پشاور: ورسک ڈویژن کے…
پشاور: خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں پہلی روبوٹک گھٹنے کی تبدیلی کی سرجری پشاور: خیبر ٹیچنگ…
پشاور میں احتجاج کرنے والے یونیورسٹی طلباء پر سیکیورٹی گارڈز کی فائرنگ طلباء ہاسٹل میں…
مہنگائی نے پشاور کے گھرانوں کو قرض لینے پر مجبور کردیا، 89 فیصد خاندان مقروض پشاور (…
خیبرپختونخوا میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائی، مولانا ادریس کی…
پشاور میں شادی کی تاریخ سے انکار پر فائرنگ، 22سالہ لڑکی جاں بحق پشاور:تھانہ پہاڑی…