پشاور: کمسن بچی اور شوہر کے سامنے اسلحے کے زور پر 2 خواتین کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا لرزہ خیز واقعہ
پشاور کے علاقے گڑھی محسن خان میں لرزہ خیز واقعے میں مسلح افراد نے رات کی تاریکی میں گھر میں گھس کر شوہر اور کمسن بچی کے سامنے 2 خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔
واردات میں مبنیہ ملزمان نے کمسن بچی اور اس کے والد کو رسیوں سے باندھ کر خواتین کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، تاہم پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔
پشاور سے ایس پی آپریشنز فرحان خان کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ تھانہ رحمان بابا کی حدود میں پیش آیا، جس کی باضابطہ رپورٹ اتوار کو موصول ہوئی۔
ابتدائی تفتیش کے مطابق رات کے وقت جب اہل خانہ سو رہے تھے، مسلح ملزمان نے اچانک گھر میں دھاوا بول دیا۔
مبینہ ملزمان نے نہ صرف شوہر اور کمسن بچی کو رسیوں سے باندھ دیا، بلکہ اسلحے کی نوک پر دونوں خواتین کو باری باری اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
متاثرہ خواتین کے بیان کے مطابق انہوں نے اور ان کی معصوم بچی نے ملزمان کے آگے ہاتھ جوڑے اور رو رو کر منت سماجت کی، لیکن سفاک ملزمان نے ایک نہ سنی اور بچی کی آنکھوں کے سامنے اس گھناؤنے فعل کا ارتکاب کیا۔
ایف آئی آر‘ کا اندراج اور 4 ملزمان کی گرفتار
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس نے فوری حرکت میں آتے ہوئے مختلف سنگین دفعات کے تحت ’ایف آئی آر‘ درج کر کے ملزمان کی تلاش شروع کر دی۔
پولیس حکام کے مطابق کامیاب چھاپہ مار کارروائی کے دوران مبینہ زیادتی میں ملوث 4 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ان ملزمان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ متاثرہ دونوں خواتین ایک ہی شہری کی بیویاں ہیں۔
سنگین دفعات کا اطلاق اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم
تھانہ رحمان بابا میں درج کی گئی رپورٹ میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 375-A، 395، 377-B، 449، 170 اور ’چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ‘ کی دفعہ 50 شامل کی گئی ہیں۔
ایس پی آپریشنز کا مزید کہنا تھا کہ واقعے کی شفاف اور جامع تفتیش کو یقینی بنانے کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، جو اس کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے گی۔
قانونی کارروائی
حالیہ دنوں میں خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے پیش نظر، اس واقعے نے شہریوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور معاشرے میں عدم تحفظ کے احساس کو جنم دیا ہے۔
تاہم پولیس کی جانب سے واقعے کی رپورٹنگ کے فوراً بعد ملزمان کی گرفتاری قانون کی عملداری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
اس سے متاثرین کو فوری انصاف کی فراہمی کی امید پیدا ہوئی ہے۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم واقعے کے مزید شواہد اکٹھے کر رہی ہے تاکہ ملزمان کو عدالت سے کڑی سے کڑی سزا دلوائی جا سکے۔


