Demonstrations against electricity bills, bill burning, nationwide shutter down were called
ویب ڈیسک: ملک بھر میں بجلی کے بلوں میں ہوشربا اضافے کے خلاف عوامی احتجاج میں تیزی آنے لگی ہے، کہیں ٹائر جلائے جا رہے ہیں تو کہیں روڈ بلاک کئے جا رہے ہیں، صوبہ خیبرپختونخوا کے اضلاع بالاکوٹ، مانسہرہ، چارسدہ اور دیگر اضلاع میں بھرپور احتجاج کیا گیا۔ بالاکوٹ میں ہونے والے مظاہرہ میں تاجر برادری نے بجلی بلز میں اضافہ مسترد کر دیا اور انجمن تاجران کی کال پر شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی، بجلی بلز میں ٹیکسز کی بھرمار اور مہنگائی کے خلاف ریلی نکالی گئی۔ مانسہرہ میں انجمن تاجران کی کال پر مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی، شہر سمیت ضلع بھر میں تمام کاروباری مراکز بند رہے، تاجروں کی بڑی تعداد نے احتجاج کیلئے مرکزی چوک سے واپڈا کے دفتر تک ریلی نکالی اور دفتر کے باہر دھرنا دیا۔ کامرہ کینٹ میں بھی احتجاجی مظاہرہ ہوااور ظالمانہ ٹیکس کے خاتمے تک بل جمع نہ کرانے کا اعلان کیاگیا۔
مردان میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور چارسدہ چوک نیو اڈہ مردان میں تاجروں اور شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مردان کے عوام نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر آئی ایم ایف ایجنڈا نامنظور کے نعرے درج تھے، مظاہرین نے بل جلا کر سڑک بلاک کر دی، حکومت کے خلاف نعرے بازی کی، عوام نے احتجاجاً بلز نظر آتش کر دئیے۔ اس موقع پر مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ تمام سرکاری افسران اور حکمرانوں کے مفت یونٹ فوری طور پر ختم کیئے جائیں، مردان کی مرکزی تنظیم تاجران و تاجراتحاد احسان باچہ گروپ کی طرف سے ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں پورے مردان سے تاجروں نے بھرپور شرکت کی۔ مظاہرین نے کہا کہ 29 اگست کو پورے پاکستان میں احتجاج اور 31 اگست کو ملک گیر شٹر ڈاون ہڑتال کیا جائَے گا۔
ضلع چارسدہ میں اے این پی نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت و محکمہ واپڈا کے خلاف شدید نعرہ بازی کی، مقررین نے کہا کہ خیبرپختون خوا میں ساری بجلی ہائیڈل سے پیدا ہو رہی ہے، اس کے باوجود بجلی بلز میں فیول ایڈجسٹمنٹ وصول کی جا رہی ہے۔ صوابی میں چھوٹا لاہور اور کرنل شیر خان کلے میں احتجاج کیا گیا، مظاہرین نے صوابی، مردان اور چھوٹا لاہور، یارحسین روڈز کو احتجاج کے دوران ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند کر دیا۔ اس موقع پر مظاہرین نے کہا کہ شہریوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے مزید امتحان میں نہ ڈالا جائے۔
صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے مختلف علاقوں میں عوام سراپا احتجاج ہیں، بجلی کے بلوں میں ظالمانہ ٹیکسز کے خلاف چوتھے روز بھی سڑکوں پر نکل آئے، مانگا منڈی میں شہریوں نے بجلی بلوں میں اضافے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔ اس موقع پر احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ بجلی کے بل بھریں یا بچوں کا پیٹ پالیں، بلوں میں ہوشربا اضافہ اور ظالمانہ ٹیکسز واپس نہ لئے گئے تو واپڈا آفس کے اندر دھرنا دیں گے۔ لاہور کے مرکزی علاقوں سمیت فیصل آباد، بہاولپور، فیصل آباد، شیخوپورہ، خوشاب اور دیگر شہروں میں بھی دھرنا و احتجاج کیا گیا۔ مظاہرین میں سرکاری ملازمین اور تاجر بھی شامل تھے۔ سرکاری ملازمین نے بھی بجلی بلوں میں اضافے کیخلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ افسران کی مفت بجلی بند کی جائے۔ صدر انجمن تاجران ہال روڈ بابر محمود بٹ کا کہنا تھا کہ بجلی کے بلوں میں اضافہ واپس نہ لیا تو سڑکوں پر نکلنے کیلئے مجبور ہوں گے۔
راولپنڈی میں سینکڑوں شہریوں نے بکرا منڈی آئیسکو گرڈ سٹیشن کا گھیراؤ کیا، احتجاج کرتے ہوئے انہوں نے بجلی کے بل جلا ڈالے اور حکومت کیخلاف نعرے بازی کی۔ شہریوں نے کہا کہ بلز میں ٹیکسز کے نام پر ہمارا خون نچوڑا جا رہا ہے، نہ بل جمع کروائیں گے نہ گھروں سے بجلی کاٹنے دینگے، احتجاج کے باعث ٹریفک بلاک ہوگیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔
ملک بھر میں بجلی کے بھاری بلوں کے خلاف شدید عوامی احتجاج کے بعد بجلی فراہمی کے اداروں کی جانب سے پولیس سے سیکیورٹی مانگ لی گئی ہے جبکہ واپڈا اہلکاروں (میٹر ریڈرز) نے میٹر ریڈنگ کے لئے ڈیوٹی پر جانے سے انکار کر دیا ہے۔ کراچی تا خیبر بجلی کے بھاری بلوں نے آگ لگا دی ہے اور لوگ سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں، مشتعل عوام بجلی کے بلوں کو آگ لگا کر بل نہ بھرنے کا اعلان کر رہے ہیں، غریب رو رو کر دہائی دے رہے ہیں جب کہ کچھ علاقوں میں بجلی فراہمی کے اداروں کے اہلکاروں پر تشدد کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔ عوام کے اس شدید ردعمل کے پیش نظر بجلی فراہمی کے اداروں نے اپنے تحفظ کے لیے پولیس سے سیکیورٹی مانگ لی ہے جبکہ واپڈا اہلکاروں (میٹر ریڈرز) نے تشدد کے خطرے کے پیش نظر میٹر ریڈنگ کے لیے جانے سے انکار کر دیا ہے، میٹر ریڈنگ میں تاخیر کے باعث صارفین کے بلوں کے یونٹ بڑھنے سے بلوں کی مالیت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ واضح رہے بجلی بلوں کے خلاف ملک گیر عوامی احتجاج کے پیش نظر ملتان الیکٹرک سپلائی کمپنی اور پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی اپنے افسران کو نقل وحرکت کم کرنے اور گاڑیوں سے سرکاری نمبر پلیٹس اتارنے کی ہدایت کر چکی ہیں۔
یاد رہے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران ملک میں بجلی کی قیمتوں میں 50سے 80فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس نے عوام کی چیخیں نکال دیں۔ ٹیرف میں 15روپے 41پیسے اضافہ ہوگیا۔ کمرشل بلوں پر 78فیصد ٹیکسزجبکہ گھریلو صارفین پر ٹیکسز کی شرح 50فیصد سے زائد ہوگئی۔ اس عرصہ کے دوران مختلف سلیبزکا ٹیرف 50سے 80فیصد تک بڑھ چکا ہے جس سے نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کیلئے بجلی کی قیمت 80فیصد تک بڑھی، یوں 10 روپے 91پیسے اضافے کے ساتھ فی یونٹ 13روپے 48پیسے سے بڑھ کر24روپے 39پیسے ہوگیا۔
Via: Mashriq Tv
پشاور: خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں پہلی روبوٹک گھٹنے کی تبدیلی کی سرجری پشاور: خیبر ٹیچنگ…
پشاور میں احتجاج کرنے والے یونیورسٹی طلباء پر سیکیورٹی گارڈز کی فائرنگ طلباء ہاسٹل میں…
مہنگائی نے پشاور کے گھرانوں کو قرض لینے پر مجبور کردیا، 89 فیصد خاندان مقروض پشاور (…
خیبرپختونخوا میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائی، مولانا ادریس کی…
پشاور میں شادی کی تاریخ سے انکار پر فائرنگ، 22سالہ لڑکی جاں بحق پشاور:تھانہ پہاڑی…
خیبرپختونخوا : بھانجےکی ٹک ٹاک ویڈیوز پر اعتراض، بھائی نے بہن اور بھانجی کو قتل…