Khyber Pakhtunkhwa government's refusal to issue declaration of elected vice chancellors of 19 universities
: بھارت کی جانب سے حالیہ جارحیت کے تناظر میں خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر میں سیکیورٹی، ہنگامی تیاریوں اور سروسز کو فوری طور پر ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری ہدایات میں تمام فیلڈ فارمیشنز، ایمرجنسی سروسز اور ضلعی انتظامیہ کو پیشگی تیاری کے تمام پروٹوکول فعال کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ نے صوبے کی تمام ضلعی ایمرجنسی کوآرڈینیشن کمیٹیوں کو فوری طور پر متحرک کرنے کی ہدایت کی ہے، جن میں پولیس، محکمہ صحت، بلدیاتی ادارے، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس، تعلیم اور میڈیا فوکل پرسنز شامل ہوں گے۔ ہر تحصیل میں مخصوص پناہ گاہوں، اسکولوں، کمیونٹی ہالز اور مساجد کی نشاندہی کرکے ان کو تیار رکھنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
احکامات میں کہا گیا ہے کہ ہنگامی ریلیف کٹس، جن میں راشن، صاف پانی، بستر اور ادویات شامل ہیں، کا خاطر خواہ ذخیرہ یقینی بنایا جائے۔ ساتھ ہی عوامی ریکارڈز، ایندھن کے ذخائر اور دیگر بنیادی ضروریات کی حفاظت پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔
تمام سرکاری محکموں اور انتظامی عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، اور انہیں آئندہ احکامات تک اسٹیشن نہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ایمبولینسز، فائر بریگیڈ، واٹر ریسکیو یونٹس کو مکمل آپریشنل رکھا جا رہا ہے جبکہ ہائی رسک علاقوں میں فوری ردعمل کی ٹیمیں تعینات کی جائیں گی۔
محکمہ داخلہ نے سول ڈیفنس کے تعاون سے مشقی ریہرسل، بلیک آئوٹ پروٹوکولز، فضائی حملے کے سائرن اور شہری رضاکار نیٹ ورک کو فعال کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ تمام ہسپتالوں، بنیادی صحت مراکز اور ٹراما سینٹرز میں ایمرجنسی ریسپانس پلان کو مکمل فعال بنانے اور بڑے پیمانے پر زخمیوں کے علاج کے لیے سہولیات تیار رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں، اینٹی بایوٹکس، سرجیکل کٹس، جلنے کے علاج کا سامان اور خون کے یونٹس کی دستیابی یقینی بنانے، ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی 24 گھنٹے ڈیوٹی شیڈول ترتیب دینے اور ذہنی دباؤ سے نمٹنے کے لیے ماہرین کی ٹیمیں بھی تیار رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
تمام غیر ضروری عوامی اجتماعات، کھیلوں کی تقریبات اور اسکول فنکشنز معطل کر دیئے گئے ہیں جبکہ تعلیمی اداروں میں سول ڈیفنس سے متعلق آگاہی سیشنز اور ابتدائی طبی امداد سے متعلق پمفلٹس و پوسٹرز کی تقسیم کا عمل شروع کیا جائے گا۔
سیکیورٹی کے تحت مواصلاتی مراکز، ایندھن اسٹیشنز، گرڈ اسٹیشنز، پلوں اور حساس عمارتوں کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے، جبکہ فوجی و سویل ایوی ایشن علاقوں کے قریب گشت میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اضلاع میں اشیائے خوردونوش کی فراہمی کی مسلسل نگرانی کریں۔
ایوان صدر اجلاس میں بڑا فیصلہ، وفاقی حکومت کا خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی لگانے پر…
پشاور میں رنگ روڈ اور جی ٹی روڈ انٹرسیکشن پر فلائی اوور کا سنگ بنیاد…
پشاور میں موبائل انٹرنیٹ کی مسلسل بندش سے کاروبار ٹھپ، تاجروں کا اربوں روپے کے…
کے پی میں ایمرجنسی یا گورنر راج لگانے کی تیاریاں، پہلے 12 اضلاع میں ایمرجنسی…
خیبر پختونخوا: 10 تا 15 اکتوبر بارشوں، ژالہ باری اور پہاڑوں پر برفباری کا امکان…
خیبرپختونخوا میں 24 گھنٹوں کے دوران ڈینگی کے کیسز میں اضافہ، خیبرپختونخوا میں گزشتہ 24…