Peshawar, Government's decision to end income tax exemption for various sectors
شانگلہ: ملاکنڈ ڈویژن میں یکم جولائی سے بعض ٹیکسوں کے نفاذ کے بعد شانگلہ، سوات، دیر، بونیر اور دیگر اضلاع میں تاجروں، سرکاری ملازمین، ٹرانسپورٹرز اور مختلف عوامی حلقوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
بینک ذرائع کے مطابق یکم جولائی سے ایف بی آر کی ہدایات کے تحت نان فائلرز کی جانب سے 50 ہزار روپے سے زائد رقم چیک کے ذریعے نکلوانے پر مقررہ شرح کے مطابق ٹیکس کی کٹوتی کی جا رہی ہے۔ اس اقدام کے بعد مختلف بینکوں میں صارفین اور عملے کے درمیان بحث و مباحثے کے واقعات بھی سامنے آئے۔
احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن کو تاریخی طور پر ٹیکس فری زون کی حیثیت حاصل رہی ہے، اس لیے نئے ٹیکسوں کا نفاذ علاقے کی خصوصی حیثیت کے منافی ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت اور منتخب عوامی نمائندوں سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو فوری طور پر متعلقہ فورمز پر اٹھا کر عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی، قدرتی آفات، معاشی مشکلات اور کمزور تجارتی سرگرمیوں سے متاثر رہا ہے، ایسے میں نئے ٹیکس عوام اور کاروباری طبقے پر اضافی مالی بوجھ ثابت ہوں گے۔
دوسری جانب بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے مستفید بعض خواتین نے بھی اپنی امدادی رقوم سے مبینہ کٹوتیوں کی شکایت کرتے ہوئے احتجاج کیا ہے۔ متاثرہ خواتین نے مطالبہ کیا ہے کہ ان شکایات کی تحقیقات کر کے اگر کسی قسم کی غیر قانونی کٹوتی ہوئی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور مستحقین کو مکمل رقم فراہم کی جائے۔
تاہم اس حوالے سے ایف بی آر اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ وضاحتی بیان سامنے نہیں آیا۔
دن میں دھونی کا فین رات میں اسپائیڈر مین، پشاور سے منظم ڈکیت گروہ کا…
خیبرپختونخوا میں آج سے بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کا امکان خیبرپختونخوا کے مختلف…
پشاور بورڈ کا بڑا اعلان، 7سے 10اکتوبر کے ایس ایس سی پرچے ملتوی پشاور:بورڈ آف…
پشاور میں مبینہ اغواء کا ڈرامہ رچانے والا نوجوان بحفاظت بازیاب پشاور: ورسک ڈویژن کے…
پشاور: خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں پہلی روبوٹک گھٹنے کی تبدیلی کی سرجری پشاور: خیبر ٹیچنگ…
پشاور میں احتجاج کرنے والے یونیورسٹی طلباء پر سیکیورٹی گارڈز کی فائرنگ طلباء ہاسٹل میں…