پشاور سمیت صوبے بھر میں مہاجرین کو کرائے پر گھر اور دکانیں دینے والے تین لاکھ افراد کی نشاندہی

Three hundred thousand people who rented houses and shops to refugees across the province, including Peshawar, have been identified.

پشاور سمیت صوبے بھر میں مہاجرین کو کرائے پر گھر اور دکانیں دینے والے تین لاکھ افراد کی نشاندہی

خیبرپختونخوا میں مہاجرین سے متعلق مبینہ کریک ڈاؤن کی اطلاعات، مختلف دعوؤں پر حکام کی جانب سے باضابطہ تصدیق کا انتظار

پشاور: صوبائی دارالحکومت پشاور سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں مہاجرین کے خلاف ممکنہ کارروائیوں سے متعلق اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے باضابطہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔

ذرائع کے مطابق صوبے بھر میں ایسے افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے جنہوں نے مہاجرین کو کرائے پر مکانات، دکانیں یا دیگر کاروباری مقامات فراہم کیے ہوئے ہیں۔ اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض پراپرٹی ڈیلرز اور جائیداد مالکان کے خلاف بھی کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف اضلاع کے انتظامی حکام کو مہاجرین سے متعلق بعض امور پر آگاہ کیا گیا ہے جبکہ بعض علاقوں میں رہائش پذیر اور کاروبار کرنے والے افراد کا ریکارڈ بھی مرتب کیا جا رہا ہے۔

رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد اور ان سے منسلک مبینہ بے نامی جائیدادوں کے حوالے سے اقدامات زیر غور ہیں۔ اس سلسلے میں بعض بازاروں اور رہائشی علاقوں کا ذکر بھی کیا جا رہا ہے جہاں نگرانی کے عمل کو مزید مؤثر بنانے کی بات کی گئی ہے۔

تاہم ان تمام دعوؤں اور ممکنہ کارروائیوں کے بارے میں وفاقی یا صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا۔ حکام کی سرکاری تصدیق سامنے آنے تک ان اطلاعات کو غیر مصدقہ قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی خبروں کے حوالے سے عوام کو مستند اور سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر انحصار کرنا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی افواہوں یا غلط فہمیوں سے بچا جا سکے۔

Publisher 


Tags:
· ·
Categories:
Latest News

Leave a Reply

Peshawar Live - پشاور