تحریر ذیشان کاکاخیل
شوگر،بلڈ پریشر اور امراض قلب ایسی بیماریاں ہے جس میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔اس بیماریوں کا شکار عام لوگوں سے زیادہ صحافی ہورہے ہیں کیونکہ اکثر صحافیوں کی ٖغذا غیر متوازن ہے،ان کا ورک لوڈ عام لوگوں سے ذیادہ ہوتا ہے جبکہ کمزور مالی حالت کے باعث وہ ہر وقت ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہے۔ماہرین امراض قلب کا بتانا ہے کہ صحافیوں کو عام انسانوں سے زیادہ ورزش،متوازن غذا کھانے اور اپنی صحت پر توجہ دینے کی ضرورت ہیں۔ خصوصی طور پر وہ صحافی جنہیں ہائی بلڈ پریشر،شوگر سمیت کسی دوسری بیماری کی شکایت ہوں کیونکہ ایسے صحافی کا امراض قلب میں مبتلا ہونے کے امکانات کافی زیادہ ہوتے ہیں۔ ماہرین امراض قلب کے مطابق ان سب سے بڑھ کر وہ صحافی جن کے خاندان میں دل کی بیماری پائی جارہی ہوں انہیں کافی محتاط طریقے سے زندگی گزارنی چاہے کیونکہ انہیں دل کا دورہ پڑنا یا دل کی مختلف بیماروں کی شکایت ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہوتی ہے۔ ماہر امراض قلب ڈاکٹر نجیب اور ڈاکٹرعبداللہ خان نے صحافیوں کے بڑھتی ہوئے امراض قلب کے کیسز سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی انسان جو 35 سال کے عمر تک پہنچ جاتا ہے ان کا امراض قلب میں مبتلا ہونے کے چانسز بڑھ جاتے ہے لیکن اگر آپ صحافی ہو جن کا ورک لوڈ عام لوگوں سے زیادہ ہوتا ہے،ہر وقت ذہنی دباؤ کا شکار رہتے ہے، اپنی ڈائیٹ پر انہیں کوئی توجہ دینے کا وقت نہیں ملتا اور وہ کسی نہ کسی نشہ کے لت میں مبتلا ہوتے ہے تو یہ وہ چند وجوہات ہے جس کے باعث اکثر صحافی امراض قلب کا شکار ہوجاتے ہے۔ ماہر امراض قلب اور وائس پریزیڈنٹ پاکستان کارڈیک سوسائٹی پروفیسر ڈاکٹر امبر اشرف کا خیال ہے کہ ہر سال 28 ستمبر عوام کی آگاہی کے لئے عالمی امراض قلب کا دن منایا جاتا ہے۔ان کے مطابق ہر سال 20 ملین لوگ امراض قلب کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔جس کی بنیادی وجہ ہماری غفلت ہے ،80 فیصد دل کی بیماریوں پر قابو پایا جاسکتا ہے اگر انسان خود احتیاط کے ساتھ زندگی گزارے ۔ان کا خیال ہے کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران امراض قلب کے کیسز میں کافی اضافہ ہوا ہے اور عام لوگوں کی طرح صحافی بھی اس میں شامل ہے۔ اکثر صحافی صرف آفس میں بیٹھ کر پورا پورا دن کام کرتے ہے ،ہفتوں اور مہینوں بلکہ سالوں تک وہ گراونڈ کا رخ نہیں کرتے ،صحت مند کھانوں کی بجائے غیر صحت بخش خوراک کھانے کو ترجیح دیتے ہے،کام کا بوجھ زیادہ ہوتا اور اکثر صحافیوں کا مالی پوزیشن کمزور ہوتا ہے اس لئے وہ امراض قلب میں مبتلا ہو جاتے ہے اور بعض اوقات مناسب علاج معالجہ فراہم نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہے۔ ماہرین کے مطابق تمام لوگوں کو بالخصوص صحافیوں کو درجہ ذیل باتوں کا ہر صورت خیال رکھنا چاہے جن میں پہلے نمبر پر ذیابیطس ،دوسرے نمبر پر ہائی بلڈ پریشر، تمباکو نوشی، بیٹھے بیٹھے طرز زندگی گزارنے والے، غیر صحت مندانہ خوراک کھانے ، تناؤ سے بھری زندگی گزارنے والے صحافی اکثر امراض قلب کا شکار ہو جاتے ہے ،ان علامت کو مدنظر رکھتے ہوئے زندگی گزارنے والے صحافیوں کو کھبی بھی دل کی بیماری کی شکایت درپیش نہیں آئے گئی۔ کیونکہ صحافیوں میں ان خطرے والے عوامل میں سے کسی ایک کا ہونا بھی ان کے لئے قلبی امراض کے باعث بن سکتے ہے۔ ماہرین کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کل مہنگائی،بے روزگاری کی بناء پرعام لوگوں کی طرح صحافی بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہے اور گزشتہ 2 سالوں کے دوران صحافیوں کا امراض قلب میں مبتلا ہونے کے کیسز میں اضافہ ہوگیا ہے۔صرف اگر سال 2022 اور 2023 کے اعداد و شمار کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ 2 سالوں کے دوران خیبرپختونخوا اور بالخصوص پشاور میں 10 کے قریب صحافی امراض قلب کا شکار ہوگئے ہے جبکہ ایک زندگی بھی ہار چکے ہے۔ امراض قلب کا شکار ہونے والے اکثر سینئر صحافی ہے،پشاور پریس کلب کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو کے دوران امراض قلب کا شکار ہونے ولاوں میں شمیم شاہد،ایکسپریس ٹی وی سے وابستہ سینئر رپورٹر شاہد حمید، سیئنر صحافی اور سماء ٹی وی کے رپورٹر عبدالرحمان،آج ٹی وی کے سیئنر رپورٹر شہاب الدین،وی او اے سے وابستہ مدثر شاہ، اے وی ٹی خیبر چینل کے وحید الرحمان،دنیا ٹی وی کے رپورٹر ثمین جان سمیت دیگر صحافی شامل ہے۔
دنیا ٹی وی کے رپورٹر ثمین جان امراض قلب کا شکار ہوکر دنیائی فانی سے کوچ کرچکے ہے۔امراض قلب سے متاثرہ صحافیوں سے وجہ معلوم کرنے کی کے لئے رابطہ کیا گیا تو سینئر صحافی شمیم شاہد نے بتایا کہ تقریبا پوری زندگی صحافت کے میدان میں گزاری،کھبی اپنی صحت پر ایسی توجہ دینے کا نہیں سوچا جس طرح صحت کا خیال رکھنا چاہیے تھا اور یہی وجہ ہے کہ جولائی 2022 میں شدید ہارٹ اٹیک آیا جس کے بعد پشاور انسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی میں سٹنٹس لگوائے اور اب ادویات لیتے ہوئے زندگی گزار رہا ہو۔ شمیم شاہد کے مطابق سٹنٹس تو صحت کارڈ پر مفت لگائے گئے مگر اب ادویات کی خریداری ،دوبارہ چیک اپ اور ٹیسٹ کرنے کے لئے خرچ ہونے والے ہزاروں روپے میں کسی نے کوئی تعاون فراہم نہیں کیا نہ حکومت اور نہ ہی کسی اور متعلقہ ادارے نے۔ ان کے مطابق گزشتہ ایک سال سے وہ روزانہ ادویات لے رہے ،مہنگائی کے اس دور میں مہنگے ادویات خریدنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
سنیئر صحافی اور سماء ٹی وی کے رپورٹر عبدالرحمان کے مطابق انہیں کبھی زندگی میں کوئی ایسا مسئلہ پہلے پیش نہیں آیا مگر رواں سال فروری کے تیسرے ہفتے میں سینے میں کھانے کے بعد سوئیاں چبھنے لگی تو احتیاطا چیک اپ کروانے ڈاکٹرز کے پاس پہنچا اور پی آئی سی میں ای سی جی اور ایکو کارروائی اور معلوم ہوا کہ دل کے تین شیریانی بند ہے۔ ڈاکٹرز کے مشورہ پر نجی اسپتال میں بائی پاس کروایا ۔بائی پاس تو صحت کارڈ کے ذریعے مفت کرایا گیا لیکن بائی پاس کے بعد انفیکشن کی پیچیدگی پیدا ہوئی اور شدید بیمار ہوا روز 104 بخار کی شکایت درپیش ہوتی تھی جس پر دوبارہ نجی اسپتال منتقل کرکے 13 دنوں تک اسپتال میں زیرعلاج رہا۔ دوبارہ اسپتال میں داخل ہونے کا خرچہ دفتر سے ملنے والے انشورنس کارڈ سے ادا کیا گیا اور کچھ کی ادائیگی خود کی ۔روزانہ ٹیکسی کا خرچ برداشت کرنے سمیت دیگر چیزوں پر کئی ماہ تک یومیہ 2 ہزار روپے خرچ ہوتے رہے ہے۔ عبدالرحمان کے مطابق تقریبا سات ماہ بعد 20 ستمبر کو زخم مکمل بند ہوگئے تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پسلیوں اور سینے میں اب بھی درد کی کیفیت برقرار رہے گی ۔دل کے مرض سے متاثر ہونے کی وجہ انہوں نے اپنی غفلت کا نتیجہ قرار دیا ان کے مطابق پچھلے سال ٹیسٹ کے بعد ڈاکٹرز نے وزن کم کرنے کا مشورہ دیا مگر میں اپنے لئے وقت نہ نکال سکا ،ان کے مطابق اس وقت بھی میں تین مختلف دوائیاں لے رہا ہوں جس کے تمام اخراجات میں خود برداشت کر رہا ہوں ان کے مطابق سات ماہ سے جاری بیماری کے دوران پریس کلب یا دیگر صحافتی اداروں سے کوئی مالی تعاون نہیں ملا اور نہ ہی حکومت نے کوئی معاونت فراہم کی ۔عبدالرحمان نے بتایا کہ وہ دفتر اور فیلڈ کے قریبی ساتھیوں کی مسلسل موٹیوشن سے آج پہلے کی طرح پیشہ وارنہ سرگرمیوں میں مصروف ہوں اور مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔کسی بھی بیماری یا خصوصی طور پر امراض قلب میں مبتلا صحافیوں کو پریس کلب کی سطح پر کتنا ریلیف فراہم کیا جاتا ہے اس بارے میں جنرل سیکرٹری پشاور پریس کلب عرفان موسی زئی کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند سالوں کے دوران عبدالرحمان،مدثر شاہ ،شہاب الدین ، وحید الرحمان سمیت کئی صحافیوں امراض قلب کا شکار ہوئے ہے جنہیں بروقت علاج معالجہ یقینی بنایا گیا ہے،شہر کے تمام اسپتالوں میں انہیں تمام سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا ہے۔
صحافیوں کو صحت کے درپیش مسائل اور امراض قلب سے متاثرہ صحافیوں کو ریلیف فراہم کرنے سے متعلق ڈائریکٹر جنرل محکمہ اطلاعات خیبرپختونخوا محمد عمران کا کہنا تھا کہ صحافی کو شادی، بیاہ اور بیماری کی صورت میں کافی ریلیف فراہم کیا جاتا ہے ان کے مطابق بیمار صحافیوں کو صحت کی سہولیات کے ساتھ ساتھ ان کو نقد پیسے بھی دی جاتی ہے تاکہ انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے،عمران کے مطابق صحافیوں کی فلاح کے لئے قائم انڈومنٹ فنڈ میں 4 کروڑ روپے موجود ہے جس کو بھی ضرورت ہوتی ہے انہیں قانون کے مطابق فنڈز جاری کردی جاتی ہے. عمران کے مطابق وزیرستان سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی اس وقت بھی حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں زیر علاج ہے جنہیں صحت کے تمام سہولیات کی فراہمی کے ساتھ 3 لاکھ روپے کا چیک بھی دیا گیا ہے اور 60 سال کے بعد بے روزگار صحافیوں کو ماہانہ 10 ہزار روپے دینے کا بھی بندوبست کیا گیا ہے جس کا مقصد کسی نہ کسی حد تک بے روزگار صحافیوں کو مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔


