Categories: Blogs

اور لالٹین بجھ گئی

نی اک پُھل موتیے       دا مار کے جگا سُرخیے

پتہ نہیں یہ سُرخیے جاگیں گے بھی یا نہیں، لیکن ان کا جاگنا بہت ضروری ہے کہ یہ رشتہ بہت پُراناہے۔ سرکاری سکول کے بیج کے بعد ہمارے سینے پہ جو دوسرا بیج اک زمانے میں سجا تھا وہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کا تھا،یعنی عوامی نیشل پارٹی کی طلباء تنظیم۔

ویسے یہ سب اچانک نہیں ہوا تھا۔ میرے ایک دوست کے دادا مرحوم کا اس میں گہرا ہاتھ تھا۔ کالج میں جو پہلا دوست بنا وہ اس وجہ سے نیشنلی تھا کہ اس کا دادا نیشنلی تھا، باپ نیشنلی ہے اسی لیے وہ بھی نیشنلی ہے۔اس لیے دادا کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما فرید طوفان ان دنوں روزنامہ شہباز کے معاملات دیکھتے تھے اور ان کے چھوٹے بھائی حمیداللہ خٹک ہمارے معاملات۔میرے مشرف بہ پختون ایس ایف کا معاملہ کچھ اس طرح منٹوں میں نمٹ گیا کہ میرا وہ نیشنلی دوست مجھے حمیداللہ خٹک کے دفتر لے گیا۔ینگ اور دبنگ انسان تھے جنہوں نے پہلے مجھے یہ بتا یا کہ  صوبہ سرحد میں جتنی بھی قومیں رہتی ہیں ان کی مادری زبان چاہے کوئی بھی ہو وہ سب پختون ہیں۔انکشاف تھا لیکن مان لیا۔ پھر انہوں نے سکھایا کہ پنجابی فوج کا ملک  پر قبضہ ہے، ساری بیوروکریسی پنجاب کی ہے۔ ہم پختونوں کے حقوق غصب ہو رہے ہیں۔ پنجابی کے لیے پنجاب، بلوچ کے لیے بلوچستان، سندھی کے لیے سندھ اور  پختونوں کے لیے کیا ہے۔ ‘شمال مغربی سرحدی صوبہ’، یہ بھی کوئی نام ہےبھلا؟ بجلی ہم پیدا کریں اور اس پر عیاشی کرے پنجاب۔پانی ہمارا اور کھیت ان کے سیراب۔ اب ہمیں اپنے حقوق چھیننے پڑیں گے۔ میں نے بھی سوچا کہ چھیننے تو پڑیں گےہی اب۔

چھیننے سے یاد آیا کہ آج عوامی نیشنل پارٹی کا ایک کارکن مجھے بتا رہا تھا کہ خیبر پختونخوا میں 2024 کا الیکشن ان سے چھینا گیا ہے کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کو عوامی نیشنل پارٹی پسند نہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسٹیبلشمنٹ کو پاکستان تحریک انصاف بہت پسند ہے، خاص کر علی امین گنڈاپور؟

سوچنا پڑے گا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے ساتھ یہ کچھ کیوں ہوا؟

پہلے تو یہ کھوج لگانی پڑے گی کہ اے این پی کے سربراہ کہاں ہیں؟ جی، اسفندیار ولی کی بات کر رہا ہوں۔ سنا ہے ان کی طبیعت ناساز رہتی ہے۔ اگر وہ منظر پر ہیں ہی نہیں تو پارٹی سربراہ کیوں ہیں؟ نون لیگ، پاکستان پیپلز پارٹی یا جے یوآئی کو ایک طرف رکھیں کہ وہ تو موروثی پارٹیاں ہیں۔ خان عبدالولی خان کے بعد اسفندیار ولی کا سربراہ ہونا کچھ تو ہضم ہوتا ہے لیکن اسفندیار ولی کی عدم موجودگی میں ایمل ولی خان ہی کیوں؟

ویسے ایک مختصر عرصے کے لیے اے این پی میں جمہوریت آئی تھی جب خان عبدالولی خان کے بعد اجمل خٹک اے این پی کے صدر بنے لیکن  جلد ہی ولی خان کی اہلیہ بیگم نسیم ولی خان کے ساتھ ان کی کھینچا تانی شروع ہو گئی۔ اجمل خٹک کا دور صدارت تنازعات میں گھرا  رہا۔ نوئے کی دہائی وہ پونم (پاکستان اوپریسڈ نیشنل موومنٹ) میں شامل ہو گئے جبکہ ان کی پارٹی ، یعنی ولی باغ ، جی ڈی اے (گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس) کی طرف جانا چاہتے تھے۔ اجمل خٹک پر یہ بھی الزام تھا کہ وہ پرویز مشرف کے زیادہ قریب تھے۔ ان پر پریشر اس قدر بڑھا کہ لامحالہ پارٹی صدارت دوبارہ ولی باغ کے پاس چلی گئی اور گمان ہے کہ پارٹی کے تابوت میں آخری کیل تک وہیں رہے گی، یعنی موروثیت۔

موروثیت سے یاد آیا کہ پشاور کا حلقہ جو کبھی این اے ون ہوا کرتا تھا۔ وہ  حلقہ ون سے 32 تک پہنچ گیا لیکن اے این پی کو اس حلقے میں حاجی غلام احمد بلور کے علاوہ کوئی امیدوار نہیں ملا۔ غلام احمد بلور اس حلقے سے جیتے کم اور ہارے زیادہ ہیں۔ 1988 میں اس حلقے سے وہ اپنا پہلا الیکشن آفتاب شیرپاؤ کے ہاتھوں ہار گئے تھے۔ ضمنی الیکشن میں پہلی دفعہ یہ سیٹ نکالی۔ 1990 میں جب غلام بلور نے بے نظیر بھٹو کو اس حلقے سے شکست دی تب وہ سرخیوں کی زینت بنے۔یہاں بھی موروثیت کا نچلا درجہ۔ غلام بلور،الیاس بلور، بشیر بلور شہید، ہارون بلور شہید اور اب ثمر بلور۔ آپ کے پاس کچھ اور کیوں نہیں ہے؟

ویسے اے این پی کے زوال میں اچھا خاصا ہاتھ آصف علی زرداری کا بھی ہے۔ اک مثال سے سمجھاتا ہوں۔بریگزٹ سے پہلے برطانیہ میں    (یونائیٹڈ کنگڈم انڈیپینڈنٹ پارٹی) کی ایک اڑان تھی، وہ یورپی یونین سے علیحدگی چاہتے تھے۔ لیکن پھر کیا ہوا۔ جیسے ہی برطانیہ یورپی یونین سے نکلا (یونائیٹڈ کنگڈم انڈیپینڈنٹ پارٹی) کے غبارے سے بھی ساری ہوا نکل گئی۔ پہلے عوامی نیشنل پارٹی کے پاس نعرہ تھا کہ صوبائی خود مختاری چاہیئے۔ آصف زرداری نے کہا یہ لو این ایف سی ایوارڈ، دوسرا نعرہ تھا کہ پہچان دو۔ وہ بھی مل گئی خیبر پختونخوا کے نام کی صورت میں۔پنجاب اور فوج سے بھی آپ کی صلح کروا دی گئی، غدار کا ٹیگ بھی ہٹ گیا۔ا مریکا بھی افغانستان چھوڑ گیا۔ آپ کے پاس کونسا نعرہ باقی رہا؟ صرف کالا باغ ڈیم؟ وہ بھی صرف تبھی جب پنجاب سے کوئی کالا باغ ڈیم کا مطالبہ کرتا ہے تو  نیشنل میڈیا پر کچھ منٹوں کے لیے پارٹی ترجمان زاہد خان نمودار ہو کر ہمیں بتا دیتے ہیں کہ نہیں بننے دیں گے۔ بات ختم۔ آپ سے سارے نعرے چھن گئے۔ آپ کوئی نیا بیانیہ نہیں بنا پائے اور مجبوراً آپ  کو باچا خان کے سائے میں پناہ لینی پڑی سرخ ٹوپیوں پر یہ لکھ کر کہ “باچا خانی پکار دہ’۔ کوئی بتائے تو کہ سنگہ پکار دہ؟ باچا خان تو اپنا کام کر گئے تھے۔ وہ تو امن اور عدم تشدد کی بات کرتے تھے۔ آپ کو باچا خانی کے اس سلوگن سے کیا ملا جس کا مطلب خود آپ کے کارکنوں کو بھی نہیں پتہ؟ نعرہ بھٹو نے دیا تھا روٹی کپڑا اور مکان جو کبھی ایکسپائر نہیں ہوگا۔ نواز شریف کا نعرہ ‘ووٹ کو عزت دو’، یہ بھی لائف ٹائم نعرہ تھا کیونکہ  ووٹ کو کبھی عزت نہیں ملنی، تاہم میاں صاحب نے باقائدہ اہتمام کرکے اس نعرے کو خود ہی دفن کیا۔ اور پھر پاکستان کا سب سے بڑا نعرہ، وہ بھی لائف ٹائم گارنٹی کے ساتھ ‘ظلم کا بدلہ ووٹ سے’۔ الیکشن سے چند ایک ہفتے پہلے ہی یہ سلوگن آیا اور ووٹوں کا سمندر ساتھ بہا کر لے گیا۔ اے این پی کوئی بیانیہ ہی نہیں بنا پائی۔

اے این پی کی شکست میں اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ بالکل نہیں ہے لیکن کردار ضرور ہے۔ اے این پی نے ہارنا ویسے بھی تھا لیکن اتنی بری طرح نہیں۔ ظلم کا بدلہ ووٹ سے کے نعرے کی  وجہ سے فوجی اسٹیبلشمنٹ  کے خلاف جتنا بھی ووٹ تھا وہ پاکستان تحریک انصاف کو پڑ گیا۔اور صرف کے پی میں نہیں، پنجاب اور سندھ میں بھی۔ یہی نعرہ جماعت اسلامی  ، جے یو آئی، پرویز خٹک اور جہانگیر ترین کو بھی ڈس گیا۔اور مسئلہ یہ ہے کہ اس نعرے کی کوئی ایکسپائری ڈیٹ بھی  نہیں ہے۔

صوبائی اسمبلی میں آپ کو ارباب عثمان  (ارباب ایوب جان کے بیٹے)کی صرف ایک سیٹ ملی۔ ویسے ارباب عثمان تو الیکشن سے پہلے پارٹی چھوڑ کر جا رہے تھے۔ آپ نے بڑی مشکل سے ان کو الیکشن کے لیے راضی کیا۔ اور طرفہ تماشا کہ وہ اپنی جیت پر خود حیران تھے کہ یہ معجزہ کیسے ہو گیا؟ دوسری طرف ہدایت اللہ چمکنی کا بیٹا ثاقب اللہ چمکنی مبارکبادیں وصول کر رہا تھا لیکن الیکشن ہار گیا۔میں آج  اے این پی کے ایک جدی پشتی  کارکن سے پوچھ رہا تھا کہ آپ اپنے کتنے لیڈروں کے نام جانتے ہیں جو صوبہ بھر سے الیکشن لڑ رہے تھے تو اس نے ایک ہاتھ کی چار انگلیوں پر نام گنوائے کہ  امیر حیدر ہوتی، میاں افتخار، غلام احمد بلور، ثمر بلور۔ پانچواں نام ایمل ولی خان کا  مجھے بتانا پڑا۔

ایمل ولی خان سے یاد آیا کہ اے این پی اس وقت عملی طور پر ایک آماٹر کے  ہاتھ میں ہے جسے محض سیاست کا شوق ہے۔جسے لیڈر شپ میں آگے بالکل نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ جو چند نام دستیاب ہیں ان میں امیر حیدر خان ہوتی، میاں افتخار اور سردار بابک زیادہ بہتر انتخاب ہو سکتے تھے۔کیا ایمل ولی خان کو پتہ نہیں کہ جب ان کے دادا خان عبدالولی خان  نے  الیکشن میں مولانا حسن جان سے شکست کھائی تو انتخابی سیاست چھوڑ دی تھی۔ یہی کام اسفندیار ولی نے بھی کیا۔ آپ نے ایک سال میں دو مرتبہ شکست کھائی ۔ سیاست بے شک نہ چھوڑیں کہ ابھی آغاز ہی ہے لیکن کچھ گریس تو دکھائیں۔اگر الیکشن چوری ہوا ہے تو بےشک الیکشن کمیشن یا عدالت نہ جائیں، کم از کم اپنے کارکنوں کو ہی ثبوت دکھا دیں کہ ان کے حوصلے بلند رہیں۔ اے این پی کو اس وقت سٹینڈ اپ کامیڈی کی بجائے سٹینڈ اپ پالیٹکس کی ضرورت ہے۔ آپ پختون کی بات کرتے ہیں اور جواب میں پختون ہی آپ کو پٹخ کر الیکشن جیت جاتے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی یہ الیکشن بری طرح ہار گئی۔ کچھ  سوال ایسے ہیں جو جواب طلب ہیں؟ کیا اس وقت اے این پی کا کوئی تنظیمی ڈھانچہ موجود ہے؟ کیا اے این پی نے الیکشن کی تیاری کر رکھی تھی؟ کیا اے این پی کا کوئی قائد گراؤنڈ پر موجود ہے؟ کیا اے این پی کے پاس کوئی سلوگن یا نعرہ ہے؟ کیا اے این پی نے الیکشن کی کمپین کی؟ اس سب کا جواب ہے ‘نہیں’۔ آپ کے پاس لیڈر شپ ہی نہیں تو حکمت عملی بھلا کیا ہو گی؟

آپ کے لیے ہمارے پاس ایک سبق ہے۔ بھٹو کو فوجی آمر ضیاءالحق نے پھانسی دی، بے نظیر ضیاء کے بعد واپس آئی اور پرائم منسٹر بن گئی۔ بے نظیر سے حکومت چھین کر نواز شریف کو وزیر اعظم بنایا گیا۔  بے نظیر نے وکٹم کھیلا اور دوبارہ وزیر اعظم بنی۔ ہمدردی کا ووٹ بے نظیر، نواز شریف، عمران خان سب نے لیا۔ اے این پی کے پاس بشیر بلور، ہارون بلور، ڈاکٹر شمشیر، عالم زیب، فضل حمید داوڑ کی شہادتیں ہیں۔ اسفندیار ولی پر قاتلانہ حملہ ہو، امیر حیدر پر حملہ ہوا۔ کیا آپ اس سب کو انتخابی سیاست میں لا پائے؟ جواب ہے کہ ‘نہیں’۔ ہارون بلور کی شہادت کا ووٹ اُس وقت ثمر بلور نے لیا لیکن اس دفعہ وہ بھی ہار گئیں۔ وجہ تھی سلوگن یعنی ‘ظلم کا بدلہ ووٹ سے’۔ اے این پی اپنے شہداء کا کوئی سلوگن نہیں بنا پائی۔

افسوس اس بات پر ہو رہا ہے کہ روایات، انسانیت، امن اور محبت کی ایک سیاسی پارٹی خیبر پختونخوا میں سے نا پید ہو رہی ہے۔ وہ پارٹی جو گالی کی سیاست نہیں کرتی، جو شکست تسلیم کرتی ہے، جو مخالف کو مبارکباد دیتی ہے۔ جس نے کبھی انتقام کی سیاست نہیں کی۔ جو مخالف کے استقبال کے لیے اس کے راہ گزر میں کھڑی ہو جاتی ہے۔ یہ کام صرف عوامی نیشنل پارٹی کا ہی خاصہ تھا۔ ایسی روایت کوئی اور پارٹی  قائم نہیں کر پائی۔

اگر خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کو بے لگام نہیں چھوڑنا تو اے این پی کو بہت محنت کرنا ہو گی۔ ایک نیا بیا نیہ بنانا ہو گا۔ کم از کم مقابلے میں تو آنا ہی ہو گا۔

بقا کی جنگ ہے جو صوبے کی سیاست کے لیے لڑنی ہی ہو گی کہ صورتحال پھر سنگل پارٹی فسطائیت کی طرف چلی جاتی ہے۔

اے این پی کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کی سیاسی حقیقیں نہ صرف بدل چکی ہیں بلکہ پلٹ چکی ہیں۔ اب ووٹر کو چورن نہیں بیچا جا سکتا بلکہ اب چورن ووٹر ہی بیچے گا۔

بازار وکیندا چُھریاں

عشقے دیاں چوٹاں بُریاں

اک پُھل موتیے دا مار کے جگا سُرخیے

via: Green Citizen Media

Recent Posts

پشاور: خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں پہلی روبوٹک گھٹنے کی تبدیلی کی سرجری

پشاور: خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں پہلی روبوٹک گھٹنے کی تبدیلی کی سرجری پشاور: خیبر ٹیچنگ…

19 hours ago

پشاور میں احتجاج کرنے والے یونیورسٹی طلباء پر سیکیورٹی گارڈز کی فائرنگ

پشاور میں احتجاج کرنے والے یونیورسٹی طلباء پر سیکیورٹی گارڈز کی فائرنگ طلباء ہاسٹل میں…

2 days ago

مہنگائی نے پشاور کے گھرانوں کو قرض لینے پر مجبور کردیا، 89 فیصد خاندان مقروض

مہنگائی نے پشاور کے گھرانوں کو قرض لینے پر مجبور کردیا، 89 فیصد خاندان مقروض پشاور (…

3 days ago

خیبرپختونخوا میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائی، مولانا ادریس کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشتگرد ہلاک

خیبرپختونخوا میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائی، مولانا ادریس کی…

4 days ago

پشاور میں شادی کی تاریخ سے انکار پر فائرنگ، 22سالہ لڑکی جاں بحق

پشاور میں شادی کی تاریخ سے انکار پر فائرنگ، 22سالہ لڑکی جاں بحق پشاور:تھانہ پہاڑی…

4 days ago

خیبرپختونخوا : بھانجےکی ٹک ٹاک ویڈیوز پر اعتراض، بھائی نے بہن اور بھانجی کو قتل کردیا

خیبرپختونخوا : بھانجےکی ٹک ٹاک ویڈیوز پر اعتراض، بھائی نے بہن اور بھانجی کو قتل…

5 days ago