تحریر: عمر حیات
ستر کی دھای تھی ہمارے گھر میں ایک پتیلے کے ڈھکن پہ ایک شعر کنند تھا جو ہمارے ماموں جو کہ ناکام عاشق تھےنے کند کیا تھا دیکھا ہلال عید تو محسوس یہ ہوا ایک اور سال جدای میں کٹ گیا عید کا چاند نظر أتے ہی جہاں عاشق اپنے جدای کے دن گننے لگتے وہیں ایسے ہی شعروں سے بھرے ہوے عید کارڈ سٹالز کی زینت بن جاتے
عید کارڈ بھی ہماری تہذیب کا حصہ رہا ہے۔ عید کارڈ کی روایت کو رشتوں سے اظہارِ محبت کی روایت کہنا بے جا نہ ہوگا
نصف رمضان گزرتے ہی شہر ہو کہ گاوں گلی ہو کہ محلہ سڑک یابازار عید کارڈز کےچھوٹے چھوٹے سٹال لگ جاتے عید کارڈ کا بھیجنا بھی ایک زمہ داری سمجھا جاتا ماضی میں اپنے پیاروں، رشتے داروں، عزیز و اقارب اور دوست و احباب کو عید کارڈز ارسال کرنے کی دل ستاں روایت بھی عید کی تیاریوں کا حصہ ہوا کرتی تھی، جسے اب سوشل میڈیا نگل گیارمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی بازاروں میں عید کارڈز کے خصوصی سٹال سج جاتے تھے۔ ہر کوئی منفرد عید کارڈ خریدنے کی سعی کرتا۔ بعدازاں اُس پر خوب صورت لکھائی میں عید کے حوالے سے اشعار لکھے جاتے تھے۔ منچلے نوجوان زیادہ تر مزاحیہ اشعار لکھتے تھے۔ یہ شعر برسوں تک عید کارڈز پر لکھے جاتے رہے:
ڈبے میں ڈبہ، ڈبے میں کیک
دوست ہے میرا لاکھوں میں ایک
:اگر بھای اپنی بہن کو بھیجتا تو ایسا شعر لکھتا
عید کی سچی خوشی بہن بھائی کی دید ہے
جب بہن ہی قریب نہ ہوتو پھر کس کی عید ہے
اور بہن اس ایک جملے کو پڑھ کر سارا دن سرشار رہتی ہوگی۔تلاشِ روزگار میں دور دراز شوہر اپنی بیوی کو مخاطب کرکے ایسے اشعار لکھ بھیجتے کہ مخاطب نازاں ہی رہتا۔بڑے اہتمام سے عزیزوں کے کارڈ صندوقچی میں سنبھال کر رکھے جاتے ۔
دیکھا ہلال عید تو آیا تیرا خیال
وہ آسماں کا چاند ہے تو میرا چاند ہے
اور جواب دیا جاتا
عید تو آ کے مرے جی کو جلاوے افسوس
جس کے آنے کی خوشی ہو وہ نہ آوے افسوس
اسی طرح اشاعتی ادارے بھی سالہا سال عید کارڈوں کی تیاری اور ڈیزائننگ پر کام کرتے تھے۔ اشاعتی اداروں کے درمیان عید کارڈز کی فروخت کے حوالے سے ایک مقابلے کا سا سماں دیکھنے کو ملتا تھا۔ عید کارڈوں کی بہتات کے باعث محکمہ ڈاک ان عید کارڈز کی ترسیل کے لیے خصوصی انتظامات کیا کرتا تھا۔
رمضان کے آخری دنوں میں ڈاک خانوں کا عملہ باقی کام چھوڑ کر صرف اور صرف عید کارڈ بذریعہ پارسل/ رجسٹرڈ اور عام ڈاک میں بک کرنے اور رسیدیں کاٹنے میں مصروف عمل ہوتا تھا۔ محکمہ ڈاک کا کام بھی معمول سے بڑھ جاتا تھا۔ لہٰذا انہیں عوام الناس کے لیے باقاعدہ ہدایت نامہ جاری کرنا پڑتا کہ بروقت عید کارڈوں کی ترسیل کے لیے فلاں تاریخ تک عید کارڈ سپرد ڈاک کر دیے جائیں
۔۔ گذشتہ دو دہائیوں میں ہماری یاداشت سے جڑی بہت سی خوبصورت چیزیں قصہ پارینہ بنیں، عید کارڈ کی حسین و دلکش روایت بھی انہی میں سے ایک ہے جنہیں جدید ٹیکنالوجی کا اژدہا نگل گیاعید کارڈ کی روایت کا ختم ہونا مہنگائی کے سبب نہیں بلکہ اب کسی کے پاس اتنا وقت ہی نہیں رہا کہ وہ عید کارڈ خریدنے بازار جائے اور پھر اسے اپنے عزیزوں کو پہنچائے۔ اب نہ وہ زمانہ رہا، نہ عید کارڈوں بھیجنے کا رواج، اب صرف یہ خوب صورت یادیں رہ گئی ہیں۔ وہ محض کارڈز نہیں تھے جو ہم اپنے پیاروں کو بھیجتے تھے، بلکہ اس میں چھپا پیار اور خلوص، جو تیز رفتار زندگی میں اب کہیں کھو گیا ہے اور جو ان عید کارڈز کے ساتھ ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرتا تھا، دوسری طرف بھی منتظر پیارے اسی پیار سے ان کارڈز کے ملنے پر خوشی کا اظہار کرتے تھے اور جواب میں وہ بھی پیار بھرا کارڈ بھیجتے تھے
اب وسائل ارزاں تریں، سہولتیں دستیاب لیکن رشتوں سے اپنا ئیت کے لیے وقت خواب ہوا، مصروفیت میں ڈیجیٹل اظہار ایک روایت کی شکل اختیار کرگیا، جیسے کاغذی پھول جس میں خوشبو کا کوئی اتا پتہ نہیں
اب عید کارڈوں کی جگہ واٹس ایپ، مسینجر اور جدید موبائل ایپلیکیشن نے لے لی ہے، شاید اسی لیے اب تہواروں پر وہ جوش و خروش نظر نہیں آتا جو پہلے نظر آتا تھا۔ دور حاضر موبائل فون اور سوشل میڈیا کا ہے، ان تک ہر عام و خاص کی رسائی کی بدولت نوجوان نسل انہی ذرائع سے عید مبارک کے پیغامات بھیجنے کو زیادہ سہل اور موزوں سمجھتی ہے اور عید کارڈ کے تکلفات میں نہیں پڑتی۔
آج نسل نو کو عید مبارک کہنے کے گرچہ بہت سے ذرائع میسر ہیں، لیکن ماضی میں عید کارڈ کے ذریعے اپنے پیاروں کی عید کی خوشیوں میں شریک ہونے کی جو خوشی ہوا کرتی تھی، وہ آج مفقود ہو چکی ہے۔
بے شک ٹیکنالوجی نے لوگوں کا اپنے پیاروں سے جذبات کا اظہار کرنا کم خرچ، آسان اور پرکشش بنا دیا ہے لیکن وہ لوگ جنہوں نے عید کارڈ منتخب کرنے، لکھنے، بھیجنے اور وصول کرنے کا لطف لیا ہے، وہ چند بٹن دبانے اور چند کلکس میں وہ لطف کبھی نہیں پا سکتے۔


