10% of medical waste in Peshawar hospitals is causing infections
ویب ڈیسک: پشاور کے سرکاری و غیر سرکاری ہسپتالوں سے نکلنے والا 10 فیصد طبی فضلہ انتہائی خطرناک ہو گیا ہے، جو مختلف بیماریوں کے پھیلاو کا باعث بن رہا ہے، ماہرین صحت کے مطابق ہسپتالوں میں ایک بستر سے یومیہ اڑھائی سے تین کلو طبی فضلہ نکلتا ہے، جس میں ایک کلو ایسا فضلہ شامل ہوتا ہے جو انفیکشن پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔
اس میں مریضوں کا بلغم، استعمال شدہ سرنج، ڈراپس سیٹ، کینولا، بلڈ بیگز اور یورین کا فضلہ شامل ہے، اس وقت کسی بھی سرکاری ہسپتال میں مریضوں کے بستروں سے نکلنے والے طبی فضلے کے مکمل اعداد و شمار موجود نہیں ہیں، جس سے یہ معلوم کیا جا سکے کہ کتنے فیصد طبی فضلے سے صحت مند افراد متاثر ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب انفیکشن کنٹرول ڈیزیز کے ماہرین نے طبی فضلے کے مناسب انتظام اور ٹھکانے لگانے کے نظام کو یقینی بنانے پر زور دیا.
پشاور میں احتجاج کرنے والے یونیورسٹی طلباء پر سیکیورٹی گارڈز کی فائرنگ طلباء ہاسٹل میں…
مہنگائی نے پشاور کے گھرانوں کو قرض لینے پر مجبور کردیا، 89 فیصد خاندان مقروض پشاور (…
خیبرپختونخوا میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائی، مولانا ادریس کی…
پشاور میں شادی کی تاریخ سے انکار پر فائرنگ، 22سالہ لڑکی جاں بحق پشاور:تھانہ پہاڑی…
خیبرپختونخوا : بھانجےکی ٹک ٹاک ویڈیوز پر اعتراض، بھائی نے بہن اور بھانجی کو قتل…
بی آر ٹی میں نئی بسیں شامل’ خواتین کیلئے پنک بس سروس کا آغاز پشاور:…