خیبرپختونخوا میں بچوں کے خلاف جرائم میں اضافہ، 7 ماہ میں زیادتی کے 370 مقدمات رپورٹ
ویب ڈیسک: خیبرپختونخوا میں بچوں کے خلاف جرائم میں تشویشناک اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق رواں سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع میں بچوں سے مبینہ زیادتی کے 370 مقدمات رپورٹ ہوئے۔
پولیس ذرائع کے مطابق پشاور سمیت صوبے کے مختلف اضلاع کے تھانوں میں درج مقدمات میں بچوں اور بچیوں کو مبینہ جنسی استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 370 مقدمات میں مجموعی طور پر 565 ملزمان کو نامزد کیا گیا، جن میں سے 486 ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ بچوں سے زیادتی کے 324 مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں، جبکہ تقریباً 80 فیصد مقدمات کے فیصلے تاحال نہیں ہوسکے۔
ذرائع کے مطابق ان مقدمات میں تقریباً 10 ایسے کیسز بھی شامل ہیں جن میں مبینہ زیادتی کے بعد بچوں کو قتل کردیا گیا۔ ان میں سے متعدد مقدمات میں نامزد ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
7 ماہ میں 66 بچوں کے قتل کے واقعات
پولیس ذرائع کے مطابق رواں سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران خیبرپختونخوا میں مختلف واقعات میں 66 بچوں کے قتل کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان مقدمات میں بھی متعدد افراد کو نامزد کرکے گرفتار کیا گیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں بچوں کے خلاف جنسی زیادتی، قتل اور دیگر جرائم کے واقعات مسلسل سامنے آرہے ہیں، جو بچوں کے تحفظ کے حوالے سے تشویشناک صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔
حالیہ عرصے میں ہری پور میں آیت نور کیس سمیت بچوں سے متعلق دیگر واقعات بھی سامنے آئے ہیں، جس کے بعد بچوں کے تحفظ، فوری انصاف اور ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔


