ویب ڈیسک: صوبائی دارالحکومت پشاور میں شدید گرمی، جبکہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع سمیت ملک کے بیشتر میدانی، وسطی اور جنوبی علاقے اس وقت شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کئی شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے بھی زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید گرمی اور تھرمل تناؤ کا سامنا ہے۔
پشاور اور بنوں سب سے زیادہ متاثر
محکمہ موسمیات کے مطابق پشاور اور بنوں موجودہ گرمی کی لہر سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہیں، ماہرین کے مطابق وسطی اور جنوبی میدانی علاقوں کے ساتھ ساتھ خیبرپختونخوا کے شمال مغربی اضلاع میں بھی درجہ حرارت معمول سے کئی ڈگری زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
پشاور، بنوں، ملتان، بہاولپور، میانوالی، بھکر، سکھر، لاڑکانہ، دادو، نوشہرو فیروز اور حیدرآباد سمیت مختلف شہروں میں دن کے اوقات میں درجہ حرارت 40 سے 45 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زائد ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
10 اضلاع میں 30 ہیٹ ویو پوائنٹس قائم
پشاور میں شدید گرمی کے ساتھ دیگر علاقے بھی ہیٹ ویو کے نشانے پر ہیں، اس شدید گرمی کے پیش نظر صوبائی محکمہ صحت نے صوبے کے 10 اضلاع میں مجموعی طور پر 30 ہیٹ ویو پوائنٹس قائم کیے ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق ان مراکز پر اب تک 142 افراد کو طبی امداد فراہم کی جا چکی ہے، جبکہ 69 طبی اہلکار اور 14 ریسکیو گاڑیاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔
ریسکیو 1122 کے خصوصی مراکز فعال
ریسکیو 1122 کی جانب سے مختلف اضلاع میں ہیٹ ویو پوائنٹس قائم کیے گئے ہیں، جن میں پشاور میں کوہاٹ اڈہ، حاجی کیمپ، چارسدہ اڈہ، لاہور اڈہ، آبدارہ روڈ اور سپین جماعت شامل ہیں۔
ضلع سوات کے علاقے قمبر، چارباغ، مٹہ، خوازہ خیلہ اور بریکوٹ سمیت متعدد مقامات، ضلع نوشہرہ کے شوبرا چوک، پبی بازار اور اکوڑہ بس سٹینڈ، ضلع خیبر کے جمرود بازار اور باڑہ بازار جبکہ ضلع بنوں، ڈیرہ اسماعیل خان، صوابی، مردان، مہمند اور بونیر میں بھی خصوصی مراکز فعال ہیں۔
ان تمام ہیٹ ویو کیمپس میں صاف پینے کا پانی، ضروری ادویات، ابتدائی طبی امداد اور تربیت یافتہ عملہ موجود ہے تاکہ متاثرہ افراد کو فوری طبی سہولت فراہم کی جا سکے۔
شہریوں کے لیے احتیاطی ہدایات
محکمہ صحت اور ماہرین موسمیات نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ دوپہر 11 بجے سے شام 4 بجے تک غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، زیادہ سے زیادہ پانی اور دیگر مشروبات استعمال کریں، بچوں، بزرگوں اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد کا خصوصی خیال رکھیں اور ہیٹ سٹروک کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر قریبی طبی مرکز یا ہیٹ ویو پوائنٹ سے رجوع کریں۔