پشاور ریڈ زون میں بلدیاتی نمائندوں کا احتجاج، پولیس کی شیلنگ
خیبرپختونخوا میں بلدیاتی نمائندے اختیارات محدود کرنے اور فنڈز فنڈز کی عدم فراہمی پر سراپا احتجاج ہیں، آج پشاور میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے میں بلدیاتی نمائندوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔
احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے میئر پشاور زبیرعلی نے کہا کہ بلدیاتی نمائندوں کی تنخواہیں اورترقیاتی فنڈز نہیں، مذاکراتی عمل پر یقین رکھتے ہیں، بلدیاتی نظام 2019 ایکٹ کو بحال کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ بلدیاتی نمائندے برائے نام ہیں، جن کے پاس کوئی اختیارات نہیں، ان کو فنڈز بھی نہیں دیے جاتے، مظالبات کے پورے ہونے تک احتجاج کریں گے۔
خیبرپختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں نے اختیارات اور فنڈز کی فراہمی کے لیے احتجاج کرتے ہوئے پشاور کے جناح پارک میں دھرنا دیا۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز فراہم نہیں کر رہی، جس کی وجہ سے علاقائی سطح پر ترقیاتی کام رک گئے ہیں
اس سے قبل صوبہ بھر کے اضلاع سے بلدیاتی نمائندے پشاور کے جناح پارک پہنچے، جہاں سے انہوں نے سیکریٹریٹ کی جانب مارچ کیا، مارچ میں کثیر تعداد میں خواتین بھی شریک تھیں۔
’صوبائی حکومت 25ہزار منتخب بلدیاتی نمائندوں کی تذلیل کررہی ہے‘
مظاہرین نے اس موقع پر کہا کہ عوام نے انہیں ووٹ دیا لیکن حکومت نے ابھی تک اختیارات نہیں دیے، فنڈز نہ ملنے کے باعث وہ اپنے علاقوں میں کام نہیں کرسکتے۔
مظاہرین نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اختیارات کو نچلی سطح پرمنتقلی کے دعوے کیا کرتے تھے،لیکن اب بلدیاتی نمائندوں کو صوبائی حکومت فنڈز نہیں دے رہی۔
’ صوبائی حکومت 25ہزار منتخب بلدیاتی نمائندوں کی تذلیل کررہی ہے ، صوبائی حکومت 25ہزار منتخب بلدیاتی نمائندوں کی تذلیل کر رہی ہے، فنذر نہ ملنے کے باعث ہمارے دفاتر بند ہوگئے، مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو احتجاج جاری رہے گا۔‘
مظاہرین احتجاج کرتے ہوئے ریڈ زون میں داخل ہوئے تو پولیس نے ان کو منتشر کرنے کے لیے ان پر آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی۔

