Categories: Latest News

ایف بی آر کا سوشل میڈیا پر لگژری طرزِ زندگی دکھانے والے نان فائلرز کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

ایف بی آر کا سوشل میڈیا پر لگژری طرزِ زندگی دکھانے والے نان فائلرز کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سوشل میڈیا پر شاہانہ طرزِ زندگی، قیمتی اثاثوں اور پرتعیش اخراجات کی نمائش کرنے والے نان فائلرز کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس کارروائی کا آغاز یکم اکتوبر 2026 سے متوقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے ایسے افراد کو نوٹسز جاری کرنے کی تیاری مکمل کر لی ہے جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مہنگی گاڑیوں، جائیدادوں، غیر ملکی سفروں اور دیگر لگژری سرگرمیوں کی نمائش کرتے ہیں لیکن یا تو ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہیں یا پھر انکم ٹیکس گوشوارے جمع نہیں کراتے۔

مجوزہ کارروائی کے تحت متعلقہ افراد کو اپنی آمدن کے ذرائع، اثاثوں اور مالی معاملات کی تفصیلات فراہم کرنا ہوں گی۔ ٹیکس حکام اس بات کا جائزہ لیں گے کہ آیا ان کی ظاہر کردہ آمدن ان کے طرزِ زندگی اور اخراجات سے مطابقت رکھتی ہے یا نہیں۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے رواں مالی سال کے دوران سوشل میڈیا پر دولت کی نمائش کرنے والے افراد کا وسیع ڈیٹا اکٹھا کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کرکے ممکنہ ٹیکس عدم تعمیل کے کیسز کی نشاندہی کی گئی ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ نادرا نے بھی متعلقہ افراد کی شناخت اور معلومات کی تصدیق میں ایف بی آر کی معاونت کی ہے۔ اس کے علاوہ بینکنگ ٹرانزیکشنز، کریڈٹ کارڈ استعمال، اے ٹی ایم سرگرمیوں اور اخراجات کے ریکارڈ سے متعلق معلومات بھی حاصل کی گئی ہیں۔

ایف بی آر ان اعداد و شمار کی بنیاد پر ایسے افراد کے خلاف ٹیکس قوانین کے تحت کارروائی کرے گا جن کی مالی سرگرمیاں ان کے ٹیکس ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ حکام کا خیال ہے کہ اس اقدام سے ایسے افراد کی نشاندہی ممکن ہوگی جو یا تو نان فائلر ہیں یا اپنی اصل آمدن سے کم آمدن ظاہر کرتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق زیرِ جائزہ افراد کو 30 ستمبر 2026 تک اپنے ٹیکس گوشوارے جمع کرا کے اپنی ٹیکس حیثیت درست کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس کے بعد ایف بی آر نوٹسز جاری کرنے اور قانونی کارروائی شروع کرنے کا اختیار استعمال کرے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے، غیر دستاویزی معیشت کے حجم کو کم کرنے اور ٹیکس قوانین پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق ڈیجیٹل ڈیٹا اور سوشل میڈیا مانیٹرنگ کے استعمال سے زیادہ آمدن رکھنے والے افراد کو ٹیکس نظام میں شامل کرنے میں مدد ملے گی۔

Publisher 

Recent Posts

پشاور: خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں پہلی روبوٹک گھٹنے کی تبدیلی کی سرجری

پشاور: خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں پہلی روبوٹک گھٹنے کی تبدیلی کی سرجری پشاور: خیبر ٹیچنگ…

23 hours ago

پشاور میں احتجاج کرنے والے یونیورسٹی طلباء پر سیکیورٹی گارڈز کی فائرنگ

پشاور میں احتجاج کرنے والے یونیورسٹی طلباء پر سیکیورٹی گارڈز کی فائرنگ طلباء ہاسٹل میں…

2 days ago

مہنگائی نے پشاور کے گھرانوں کو قرض لینے پر مجبور کردیا، 89 فیصد خاندان مقروض

مہنگائی نے پشاور کے گھرانوں کو قرض لینے پر مجبور کردیا، 89 فیصد خاندان مقروض پشاور (…

3 days ago

خیبرپختونخوا میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائی، مولانا ادریس کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث دہشتگرد ہلاک

خیبرپختونخوا میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائی، مولانا ادریس کی…

4 days ago

پشاور میں شادی کی تاریخ سے انکار پر فائرنگ، 22سالہ لڑکی جاں بحق

پشاور میں شادی کی تاریخ سے انکار پر فائرنگ، 22سالہ لڑکی جاں بحق پشاور:تھانہ پہاڑی…

4 days ago

خیبرپختونخوا : بھانجےکی ٹک ٹاک ویڈیوز پر اعتراض، بھائی نے بہن اور بھانجی کو قتل کردیا

خیبرپختونخوا : بھانجےکی ٹک ٹاک ویڈیوز پر اعتراض، بھائی نے بہن اور بھانجی کو قتل…

5 days ago