Four killed over property dispute in Peshawar
پشاور میں مبینہ طورپر غیرت کے نام پر بارہویں جماعت کی طالبہ اور ڈرائیور کو گھر کے اندر قتل کردیا گیا، پشاور پولیس نے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ واقعہ مچنی گیٹ کی حدود چولی پایاں میں پیش آیا ہے، جس کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ مبینہ طور پر باپ بیٹے نے مل کر دنوں کو قتل کیا ہے، پولیس نے ایک ملزم کو موقع پرہی گرفتار کیا، جبکہ پولیس کوشبہ ہے کہ گرفتار ملزم کا بیٹا بھی جرم میں شریک تھا جس کی تلاش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کی اطلاع ملتے ہی ٹیم موقع پر پہنچ گئی تو معلوم ہوا کہ لڑکی اور لڑکے کو گھر کے اندر قتل کیا گیا ہے، جہاں دونوں کی لاشیں خون میں لت پت پڑی تھیں۔
پولیس نے بتایا کہ مقتول ڈرائیور تھا جبکہ لڑکی باچا خان کالج میں بارہویں جماعت کی طالبہ تھی، پولیس کے مطابق مقتول ڈرائیو لڑکی سے ملنے ان کے گھر آیا تھا، گھر میں لڑکی کے ساتھ دیکھ کر ملزمان (لڑکی کے والد اور بھائی) نے دونوں کو مبینہ طور پر قتل کردیا۔
پولیس نے موقع پر ہی ایک ملزم کو گرفتار کیا ہے جبکہ لاشوں کو تحویل میں لے کر پوسٹ مارٹم کے لیے اسپتال منتقل کردیا ہے۔
خیبر پختونخوا میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں، کچھ عرصہ پہلے نوشہرہ میں بھی مبینہ غیرت کے نام پر مقامی اداکارہ کا قتل کیا گیا تھا۔
اداکارہ و گلوکارہ خوشبو کو رواں سال 10 جون کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا تھا۔ پولیس اور انسانی حقوق پر کام کرنے والوں کے مطابق شوبز میں کام کرنے والی خواتین کو اکثر غیرت کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔
سال 2019 میں بھی خیبرپختونخوا کے ضلع سوات میں گلوکارہ اور رقاصہ کا قتل ہوا تھا۔ پولیس نے اس وقت میڈیا کو بتایا تھا کہ گلوکارہ ثنا کا قتل کسی اور نے نہیں بلکہ مبینہ طور پر چھوٹے بھائی نے چھریوں کے وار سے کیا تھا، پولیس کا کہنا تھا کہ بھائی شوبز سے وابستگی پر خوش نہیں تھا۔
سال 2019 میں ہی مردان میں بھی ایک ماڈل و اداکارہ کو قتل کیا گیا تھا، مقتولہ لبنی عرف گلالئی پشتو ڈراموں کی معروف اداکارہ تھی۔ سال 2018 میں نوشہرہ میں ہی پشتو گلوکارہ ریشم عرف ریشماں کے قتل کا واقعہ ہوا تھا۔ جس کو شوہر نے گھریلو ناچاقی پر مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بناکر قتل کیا تھا۔
سال 2018 میں مردان میں محفل رقص میں شرکت سے انکار پر مقامی ڈانسر قتل ہوئی تھی۔ مقامی ڈانسر سنبل خان کو ان کے گھر میں ہی قتل کیا گیا تھا۔
اگست 2015 میں نوشہرہ میں پشتو کی معروف گلوکارہ مسرت شاہین کو بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔ جبکہ جون 2014 کو پشاور میں پشتو گلوکارہ گل ناز کو گھر کے اندر اہل خانہ کے سامنے قتل کیا گیا تھا۔
سال 2012 میں بھی قتل کی لرزہ خیز کہانی اس وقت سامنے آئی جب معروف گلوکارہ غزالہ جاوید پر پشاور میں فائرنگ ہوئی، عین اس وقت جب وہ ایک تقریب کے لیے تیار ہونے کے بعد والد کے ساتھ جارہی تھی، فائرنگ سے غزالہ جاوید اور والد دونوں جاں بحق ہوگئے تھے۔
پشاور میں احتجاج کرنے والے یونیورسٹی طلباء پر سیکیورٹی گارڈز کی فائرنگ طلباء ہاسٹل میں…
مہنگائی نے پشاور کے گھرانوں کو قرض لینے پر مجبور کردیا، 89 فیصد خاندان مقروض پشاور (…
خیبرپختونخوا میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائی، مولانا ادریس کی…
پشاور میں شادی کی تاریخ سے انکار پر فائرنگ، 22سالہ لڑکی جاں بحق پشاور:تھانہ پہاڑی…
خیبرپختونخوا : بھانجےکی ٹک ٹاک ویڈیوز پر اعتراض، بھائی نے بہن اور بھانجی کو قتل…
بی آر ٹی میں نئی بسیں شامل’ خواتین کیلئے پنک بس سروس کا آغاز پشاور:…