Pakistan Business Summit successfully held in Peshawar, more than 600 delegates participate
پشاورلاَئیو، 2 اکتوبر 2025ء: خیبر پختونخوا کے تاریخی شہر پشاور نے پہلی بار قومی سطح کے بڑے کاروباری اجتماع “پاکستان بزنس سمٹ” کی میزبانی کی، جس کا عنوان “مستقبل کی سمت” رکھا گیا۔ سرینہ ہوٹل پشاور میں منعقدہ اس سمٹ میں ملک بھر اور بیرونِ ملک سے تعلق رکھنے والے چھ سو سے زائد مندوبین نے شرکت کی۔
یہ ایونٹ نٹ شیل گروپ اور البرکہ بینک (پاکستان) لمیٹڈ کی میزبانی میں منعقد ہوا، جسے گورنر خیبر پختونخوا کی سرپرستی حاصل تھی۔ اس کے لیے نیشنل بینک، فیصل بینک، دبئی اسلامک بینک، اسٹیٹ لائف انشورنس، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آو آئی سی سی آئی)، اے سی سی اے اور دیگر اداروں نے تعاون فراہم کیا۔
افتتاحی اجلاس میں قائم مقام صدر و چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، صوبائی وزیر خزانہ مزمل اسلم، وفاقی وزیر نجکاری محمد علی اور دیگر اہم شخصیات نے خطاب کیا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو اب امداد پر نہیں بلکہ تجارت اور سرمایہ کاری پر استوار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالر رہیں اور آئندہ سال ان میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ یوسف رضا گیلانی نے نوجوانوں کی صلاحیتوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جنہیں ٹیکنالوجی اور تعلیم کے میدان میں آگے لانا وقت کی ضرورت ہے۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبہ سیاحت، معدنیات اور سستی بجلی کے وسائل سے مالا مال ہے لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے واجب الادا فنڈز نہ ملنے سے مسائل درپیش ہیں۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کو خیبر پختونخوا میں خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ یہاں بے شمار مواقع موجود ہیں۔
سمٹ کے دوران مختلف سیشنز میں معیشت، سرمایہ کاری، بینکاری، صنعت، موسمیاتی تبدیلی، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل معیشت کے مستقبل پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ ملکی اور غیر ملکی ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو پائیدار ترقی کے لیے مستقل پالیسیوں، نجی شعبے کی شمولیت اور جدید ٹیکنالوجی اپنانے کی ضرورت ہے۔
پشاور اور خیبر پختونخوا کی نمایاں شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے تین بڑے ناموں کو اعزازات دیے گئے، جن میں پروفیسر ڈاکٹر محمد رحمٰن (بانی رحمٰن میڈیکل انسٹی ٹیوٹ)، پروفیسر ڈاکٹر عبدالباری خان (بانی انڈس اسپتال نیٹ ورک) اور اسکوائش لیجنڈ جہانگیر خان شامل ہیں۔ ان کی خدمات کو “قوم کا سرمایہ” قرار دیا گیا۔
اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایئر چیف مارشل (ر) سہیل امان نے کہا کہ پاکستان کا دفاعی نظام مضبوط ہے اور اب ضرورت اس بات کی ہے کہ معیشت اور صنعت کو بھی اسی قوت سے آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا وسطی ایشیا کی منڈیوں تک رسائی کے لیے گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے، اس موقع کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
پاکستان بزنس سمٹ پشاور کو ماہرین نے خطے میں تجارت، سرمایہ کاری اور پالیسی مکالمے کے فروغ کا سنگِ میل قرار دیا ہے۔
۔
پشاور میں احتجاج کرنے والے یونیورسٹی طلباء پر سیکیورٹی گارڈز کی فائرنگ طلباء ہاسٹل میں…
مہنگائی نے پشاور کے گھرانوں کو قرض لینے پر مجبور کردیا، 89 فیصد خاندان مقروض پشاور (…
خیبرپختونخوا میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مشترکہ کارروائی، مولانا ادریس کی…
پشاور میں شادی کی تاریخ سے انکار پر فائرنگ، 22سالہ لڑکی جاں بحق پشاور:تھانہ پہاڑی…
خیبرپختونخوا : بھانجےکی ٹک ٹاک ویڈیوز پر اعتراض، بھائی نے بہن اور بھانجی کو قتل…
بی آر ٹی میں نئی بسیں شامل’ خواتین کیلئے پنک بس سروس کا آغاز پشاور:…